
میرا نام مخدوم امجد ہاشمی ہے، اور میری جڑیں مخدوم رشید ملتان کی سرزمین سے جڑی ہیں، ایسی سرزمین جہاں کی مٹی خوشبو دیتی ہے وہ مٹی جہاں میں نے سانس لینا سیکھا،وہ فضائیں جہاں میری ہنسی گونجی، وہ راستے جن پر میرے بچپن کے قدموں کی چھاپ ہے۔ نائنتھ جماعت تک وہیں پڑھا، وہیں کھیلا، اور انہی کھیتوں، گلیوں، اور مانوس چہروں میں میں پروان چڑھا۔
یہ صرف ایک گاؤں نہیں، میری پہلی پہچان ہے۔ میرا پہلا عشق ہے، بچپن کی گلیاں، کھیتوں کی مہک، مسجد کے صحن میں پہلی بار سجدہ کرنا، مدرسے کے استاد کی ڈانٹ، سردیوں میں سکول جانا کام نہ کرنے کے بہانے لگانا،دوستوں کے ساتھ کھیتیوں میں کھیلنا نہرمیں نہانا اپنی زمین پرجانا اپنے فارم سے دودھ لانا بھینسوں سے کھیلنا خرگوشوں کو پکڑنا گندم کی کٹائی کروانا، کپاس کی چنوائی کروانا،وہ مرغیاں پالنا، جون کی گرم دھوپ میں سائیکل چلانا ۔ میرا گاؤں مخدوم رشید یہ سب میرے وجود کا حصہ ہیں۔
میرا خون، میری شناخت، میرا خاندان سب اسی خطے سے جُڑے ہیں۔ ہم اُس عظیم بزرگ، مخدوم عبدالرشید حقانی کے وارث ہیں جنہوں نے اس خطے کو اسلام کے نورسے روشن کیا۔ اسی خطے میں میرے اجداد کی روشنی پھیلی۔ میں پوتا ہوں مخدوم عبدالرشید حقانی کا، جنہوں نے سلسلہ قادریہ کی شمع روشن کی میں سلسلہ قادریہ کا وارث ہوں۔ میں مرشد بھی ہوں اور پیروکاروں کے لیے راہبر بھی۔ ہمارے عقیدت مندوں سے یہ خطہ آج بھی لبریز ہے ۔ میں نہ صرف ان کا وارث ہوں، بلکہ ان ہزاروں، لاکھوں عقیدت مندوں کا بھی راہبر ہوں، جنہوں نے ہماری سرپرستی میں فیض پایا۔ یہ محض عقیدت نہیں، یہ صدیوں پر پھیلا روحانی رشتہ ہے۔ ہمارے اجداد کی قبریں اس دھرتی پر گواہ ہیں کہ ہمارا تعلق یہاں سے صدیوں پرانا ہے آٹھ سو سالہ روحانی تاریخ کا وارث ہوں میں ۔